<body topmargin="0" leftmargin="0" bgcolor="#F9F8EC" bgproperties="fixed"><script type="text/javascript"> function setAttributeOnload(object, attribute, val) { if(window.addEventListener) { window.addEventListener('load', function(){ object[attribute] = val; }, false); } else { window.attachEvent('onload', function(){ object[attribute] = val; }); } } </script> <div id="navbar-iframe-container"></div> <script type="text/javascript" src="https://apis.google.com/js/plusone.js"></script> <script type="text/javascript"> gapi.load("gapi.iframes:gapi.iframes.style.bubble", function() { if (gapi.iframes && gapi.iframes.getContext) { gapi.iframes.getContext().openChild({ url: 'https://www.blogger.com/navbar.g?targetBlogID\x3d12814790\x26blogName\x3d%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88+%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%B6\x26publishMode\x3dPUBLISH_MODE_BLOGSPOT\x26navbarType\x3dBLUE\x26layoutType\x3dCLASSIC\x26searchRoot\x3dhttps://bayaaz.blogspot.com/search\x26blogLocale\x3den_US\x26v\x3d2\x26homepageUrl\x3dhttp://bayaaz.blogspot.com/\x26vt\x3d2065659182679175016', where: document.getElementById("navbar-iframe-container"), id: "navbar-iframe" }); } }); </script>

Sunday, May 28, 2006

چھيڑے کبھي ميں نے

چھيڑے کبھي ميں نے لب و رخسار کے قصے گا ہےگل و بلبل کي حکايات کو نکھارا گا ہے کسي شہزادے کے افسانے سنائے گا ہے کيا دنيائے پرستاں کا نظارا ميں کھويا رہا جن و ملائک کے جہاں ميں ہر لحظہ اگر چہ مجھے آدم نے پکارا ۔۔۔ احمد فراز ۔۔۔



Friday, May 19, 2006

متاع لوح و قلم

متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے کہ خون دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے زبان پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے ہر ایک حلقہ زنجیر میں زباں میں نے فیض احمد فیض



Monday, May 15, 2006

تقسيم

يہ حساب کا بڑا ضروري قاعدہ ہے، سب سے زيادہ جھگڑے اسي پر ہوتے ہيں۔ تقسيم کا مطلب بے بانٹنا اندھوں کا آپس ميں ريوڑياں بانٹنا بندر کا بليوں ميں روٹي بانٹنا چوروں کا آپس ميں مال بانٹنا اہلکاروں کا آپس ميں رشوت بانٹنا مل بانٹ کر کھانا اچھا ہوتا ہے دال تک جوتوںمیں بانٹ کر کھاني چاہئيے ورنہ قبض کرتي ہے تقسيم کا طريقہ کچھ مشکل نہيں ہے حقوق اپنے پاس رکھئيے فرائض دوسروں ميں بانٹ ديجئے روپيہ پيسہ اپنے کَھسے ميں ڈالئيے قناعت کي تلقين دوسروں کو کيجئے آپ کو مکمل پہاڑہ مع گر ياد ہو تو کسي کو تقسيم کي کانوں کان خبر نہيں ہوسکتي، آخر کو 12 کروڑ کي دولت کو 22 خاندانوں نے آپس ميں تقسيم کيا ہي ہے؟ کسي کو پتہ چلا؟ تفريق کے قاعدے سے دودھ ميں سے مکھي نکالو۔ آدمي ضرب مسلسل کي تاب کہاں تک لاسکتا ہے؟ جو اندھے نہيں وہ بھي ريوڑياں اپنوں ہي ميں کيوں بانٹتے ہيں؟ ۔۔۔ ابن انشاء - اردو کی آخری کتاب ۔۔۔



میری ماں

ماں کی ممتا، چاند کی ٹھنڈک، شیتل شیتل نور اسکی چھایا میں تو جلتی دھوپ بھی ہو کافور بچپن سے یہ درس دئیے کہ دکھ نہ کسی کو دو اپنا درد چھپائے اس کا درد نہ جانے کو سُچی، صاف کھری اور سچی اس کی ہر اک بات رہ میں نور بکھیرے اس کی اجلی اجلی ذات وِیروں پہ قربان یہ اپنی بہنوں کی غمخوار کوئی کرے یا نہ پر اس کے دل میں گہرا پیار غم کی آندھی آئے یا ہو مشکل کا طوفان ہر بپتا کو ایسے جھیلے ھیسے ایک چٹان اس میں اَنا کا روپ بھی ہے خودداری کی بھی شان سر نہ جھکے بندے کے آگے اس کا ہے ایمان چہرہ ساکن سینے میں پر اٹھیں لاکھ ابال جانے والے چلے گئے پتھر میں دراڑیں ڈال مالک اس چھتناور پیڑ کی سدا رہے ہریالی اس بگیا کی خیر ہو داتا تو ہی اس کا والی ۔۔۔ صاحبزادی امتہ القدوس بیگم ۔۔۔



Friday, May 12, 2006

آسمان

ذرا نظر اٹھا کر آسمان کي طرف ديکھو، کتنا اونچا ہے۔ يہي وجہ ہے کہ کوئي اس سے گرے تو بہٹ چوٹ آتي ہے ۔بعض لوگ آسمان سے گرے ہيں تو کھجور ميں اٹک جاتے ہيں ۔نہ نيچے اتر سکتے ہيں ، نہ دوبارہ آسمان پر چڑھ سکتے ہيں ۔وہيں بيٹھے کھجوريں کھاتے رہتے ہيں۔ليکن کھجوريں بھي تو کہيں کہیں ہوتي ہيں۔ ہر جگہ نہيں ہوتيں۔ کہتے ہيں پہلے زمانے ميں آسمان اتنا اونچا نہيں ہوتا تھا۔ غالب نام کا شاعر جو سو سال پہلے ہوا ہے ۔ايک جگہ کسي سے کہتا ے۔ کيا آسمان کے بھي برابر نہيں ہوں ميں؟ جوں جوں چيزوں کي قيمتيں اونچي ہوتي گئيں آسمان ان سے باتيں کرنے کے لئے اونچا اٹھتا چلا گيا۔ اب نہ چيزوں کي قيمتيں نيچے آئيں نہ آسمان نيچے اترے۔ايک زمانے ميں آسمان پر صرف فرشتے رہا کرتے تھے۔پھر ہمہ شما جانے لگے جو خود نہ جا سکتے تھے ان کا دماغ چلا جاتا تھا۔ يہ نيچے زمين پر دماغ کے بغير ہي کام چلاتے تھے ۔بڑي حد تک اب بھي يہي صورت ۔راہ چلتے ميں آسمان کي طرف نہيں ديکھنا چاھئيے تا کہ ٹھوکر نہ لگے جو زمين کي طرف ديکھ کر چلتا ہے اس کے ٹھوکر نہيں لگتي۔ ۔۔۔ ابن انشاء ۔۔۔



Saturday, May 06, 2006

کٹھن ہے راہ

کٹھن ہے راہ گزر تھوڑي دور ساتھ چلو بہت کڑا ہے سفر تھوڑي دور ساتھ چلو تمام عمر کہاں کوئي ساتھ ديتا ہے يہ جانتا ہوں مگر تھوڑي دور ساتھ چلو نشے ميں چور ہوں ميں بھي تمہيں ہوش نہيں بڑا مزہ ہو اگر تھوڑي دور ساتھ چلو يہ ايک شب کي ملاقات بھي غنيمت ہے کسے ہےکل کي خبر تھوڑي دور ساتھ چلو ابھي تو جاگ رہے ہيں چراغ راہوں کے ابھي ہے دور سحر تھوڑي دور ساتھ چلو طواف منزل جاناں ہميں بھي کرنا ہے فراز تم بھي اگر تھوڑي دور ساتھ چلو ۔۔۔ احمد فراز ۔۔۔



Tuesday, May 02, 2006

سزائے موت کا مژدہ

یہ وہ ساحر ہے جن کے ہاتھ میں ہم سب کی جانیں ہیں یہاں سورج کے قاتل کو عدالت چھوڑ دیتی ہے سزائے موت کا مژدہ نہ کوئی قید ہوتی ہے جو سورج کو قتل کرتا ہے اس کو روشنی تقسیم کرنے کی وزارت سونپ دیتے ہیں یہ تاریکی کے سوداگر ہیں سورج بلیک کرتے ہیں انہیں ضد ہے ہوائیں، روشنی اور خواب خود بانٹیں یہ موسم قرض دیتے ہیں انہیں معلوم ہے کس کو کہاں مصروف رکھنا ہے کسے آزاد رکھنا ہے کہاں یہ جبر کا موسم، کہاں رت ہو حکومت کی یہ ساحر بند کمروں میں یہی اجلاس کرتے ہیں ۔۔۔ طلعت اخلاق ۔۔۔



بیاض کیا ہے؟

بیاض اردو شاعری اور ادب کا نچوڑ ہے

اراکینِ بیاض

اسماء

عمیمہ

حارث

میرا پاکستان

طلحہ

باذوق

حلیمہ

بیا

میاں رضوان علی

بیاض میں شمولیت؟

اگر آپ بیاض میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو یہ قوائد پڑھ لیں، بعد از اپنے نام اس ای میل پر بھیجیں۔

دیکھنے میں دشواری؟

اردو کو بغیر دشواری کے دیکھنے کے لیے یہاں سے فونٹ حاصل کریں۔

گذشتہ تحریرات:

خزینہ گم گشتہ:

Powered by Blogger

بلاگ ڈیزائن: حنا امان

© تمام حقوق بحق ناشران محفوظ ہیں 2005-2006