|
![]() |
Saturday, October 28, 2006میری تیری نگاہ میں جو لاکھ انتظار ہیں جو میرے تیرے تن بدن میں لاکھ دل فگار ہیں جو میری تیری انگلیوں کی بے حسی سے سب قلم نزار ہیں جو میرے تیرے شہر کی ہر اک گلی میں میرے تیرے نقشِ پا کے بے نشاں مزار ہیں جو میری تیری رات کے ستارے زخم زخم ہیں جو میری تیری صبح کے گلاب چاک چاک ہیں یہ زخم سارے بے دوا یہ چاک سارے بے رفو کسی پہ راکھ چاند کی کسی پہ اوس کا لہو یہ ہے بھی یا نہیں ، بتا یہ ہے کہ محض جال ہے میرے تمھارے عنکبوتِ وہم کا بُنا ہوا جو ہے تو اسکا کیا کریں نہیں ہے تو بھی کیا کریں بتا، بتا بتا، بتا ۔۔۔ فیض احمد فیض ۔۔۔ |
بیاض کیا ہے؟بیاض اردو شاعری اور ادب کا نچوڑ ہے اراکینِ بیاضبیاض میں شمولیت؟دیکھنے میں دشواری؟اردو کو بغیر دشواری کے دیکھنے کے لیے یہاں سے فونٹ حاصل کریں۔ گذشتہ تحریرات:
بلاگ ڈیزائن: حنا امان |
![]() |
© تمام حقوق بحق ناشران محفوظ ہیں 2005-2006 |
2: تبصرہ جات
^_^
kiya hua
11/01/2006 10:07:00 PM
kuch nahi, khush ho rahi hoon:)
11/03/2006 12:30:00 AM
Post a Comment
<< صفحہ اول