|
![]() |
Friday, September 08, 2006کوئي زنجير آہن کي چاندي کي روايت کي محبت توڑ سکتي ہے يہ ايسي ڈھال ہے جس پر زمانے کي کسي تلوار کا لوہا نہيں چلتا يہ ايسا شہر ہے جس ميں کسي آمر کسي سلطان کا سکہ نہيں چلتا اگر چشم تماشا ميں ذرا سي بھي ملاوٹ ہو يہ آئينہ نہيں چلتا يہ ايسي آگ ہے جس ميں بدن شعلون ميں جلتے ہيں تو روہيں مسکراتي ہيں يہ وہ سيلاب ہے جس کو دلوں کي بستياں آواز دے کر خود بلاتي ہيں يہ جب چاہے کسي بھي خواب کو تعبير مل جائے جو منظر بجھ چکے ہيں انکو بھي تنورير مل جائے دعا جو بے ٹھکانہ تھي اسے تاثير مل جائے کسي رستے ميں رستہ پوچھتي تقدير مل جائے محبت روک سکتي ہے سمے کے تيز دھارے کو کسي جلتے شرارے کو، فنا کے استعارے کو محبت روک سکتي ہے کسي گرتے ستارے کو يہ چکنا چور آئينے کے ريزے جوڑ سکتي ہے جدھر چاھے يہ باگيں موسموں کي موڑسکتي ہے کوئي زنجير ہو اس کو محبت توڑ سکتي ہے امجد اسلام امجد |
بیاض کیا ہے؟بیاض اردو شاعری اور ادب کا نچوڑ ہے اراکینِ بیاضبیاض میں شمولیت؟دیکھنے میں دشواری؟اردو کو بغیر دشواری کے دیکھنے کے لیے یہاں سے فونٹ حاصل کریں۔ گذشتہ تحریرات:
بلاگ ڈیزائن: حنا امان |
![]() |
© تمام حقوق بحق ناشران محفوظ ہیں 2005-2006 |
0: تبصرہ جات
Post a Comment
<< صفحہ اول