|
![]() |
Sunday, August 27, 2006يونہی ہنسی ہنسی میں ہم دلوں سے کھیل جاتے ہیں کوئی چھوٹی سی تيکھی بات کوئی چبھتا ہوا جملہ کوئی زہر آلود لہجہ کوئی بے ضرر سي ذو معنی بات سننے والے کے دل پر گھاؤ لگا جاتی ہے پھر کتنی ہی تلافی کے مرہم لگاؤ قطرہ قطرہ خون ٹپکتا ہی رہتا ہے وہ آنسو جو آنکھ سے گِرتا ہی نہیں اندر ہی اندر جم جاتا ہے برف پہ گرے قطرے کی طرح اور برف تو شايد وقت کی گرمی سے پگھل جاتي ہے مگر وہ قطرہ جب بھی پگھلنے لگتا ہے پھیل جاتا ہے بڑھ جاتا ہے بس ختم نہیں ہوتا اور يونہی ہنسی ہنسی میں ہم دلوں سے کھیل جاتے ہیں |
بیاض کیا ہے؟بیاض اردو شاعری اور ادب کا نچوڑ ہے اراکینِ بیاضبیاض میں شمولیت؟دیکھنے میں دشواری؟اردو کو بغیر دشواری کے دیکھنے کے لیے یہاں سے فونٹ حاصل کریں۔ گذشتہ تحریرات:
بلاگ ڈیزائن: حنا امان |
![]() |
© تمام حقوق بحق ناشران محفوظ ہیں 2005-2006 |
0: تبصرہ جات
Post a Comment
<< صفحہ اول