<body topmargin="0" leftmargin="0" bgcolor="#F9F8EC" bgproperties="fixed"><script type="text/javascript"> function setAttributeOnload(object, attribute, val) { if(window.addEventListener) { window.addEventListener('load', function(){ object[attribute] = val; }, false); } else { window.attachEvent('onload', function(){ object[attribute] = val; }); } } </script> <div id="navbar-iframe-container"></div> <script type="text/javascript" src="https://apis.google.com/js/plusone.js"></script> <script type="text/javascript"> gapi.load("gapi.iframes:gapi.iframes.style.bubble", function() { if (gapi.iframes && gapi.iframes.getContext) { gapi.iframes.getContext().openChild({ url: 'https://www.blogger.com/navbar.g?targetBlogID\x3d12814790\x26blogName\x3d%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88+%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D8%B6\x26publishMode\x3dPUBLISH_MODE_BLOGSPOT\x26navbarType\x3dBLUE\x26layoutType\x3dCLASSIC\x26searchRoot\x3dhttp://bayaaz.blogspot.com/search\x26blogLocale\x3den_US\x26v\x3d2\x26homepageUrl\x3dhttp://bayaaz.blogspot.com/\x26vt\x3d9068641911260533592', where: document.getElementById("navbar-iframe-container"), id: "navbar-iframe" }); } }); </script>

Sunday, January 21, 2007

اردو بیاض - نئی جگہ

السلام و علیکم کچھ دن قبل میں نے اردو بیاض کو ورڈ پریس پہ منتقل کر دیا ہے۔ سو آپ اب بیاض کو یہاں پائیں گے۔ والسلام مزید تفصیل کے لئیے آپ مجھے ای میل کرسکتے ہیں



Tuesday, November 07, 2006

ناممکن

وہ کہہ رہی تھی کہ سب کچھ ہے ساعتِ موجود مناؤ شوق سے جو بھی خوشی میسر ہو وہ کہہ رہی تھی کہ ماضی کا غم بھلا ڈالو نہ لب پہ آہ نہ آنکھوں میں ‌اشک ہو وہ کہہ رہی تھی کہ کرو تم نہ فکرِ مستقبل فلک جو رنگ دکھائے گا دیکھا جائے گا وہ کہہ رہی تھی ۔۔۔ مگر میں عمل نہ کر پایا کہ میرا خاطرِ حساس میرے بس میں نہیں مجھے ہے ربطِ غمِ دوش و فکرِ فردا سے میں اپنا گزرا زمانہ بھلا نہیں سکتا !!!میں فکرِ فردا سے دامن چھڑا نہیں سکتا ۔۔۔ ظہور احمد فاتح ۔۔۔ عکس کے دشتِ تنہائی سے



Thursday, November 02, 2006

فرض کرو

فرض کرو ہم تارے ہوتے اک دوجے کو دور دور سے دیکھ دیکھ کر جلتے بجھتے اور پھر اک دن شاخِ فلک سے گرتے اور تاریک خلاؤں میں کھو جاتے دریا کے دو دھارے ہوتے اپنی اپنی موج میں بہتے اور سمندر تک اس اندھی، وحشی اور منہ زور مسافت کے جادو میں تنہا رہتے فرض کرو ہم بھور سمے کے پنچھی ہوتے اڑتے اڑتے اک دوجے کو چھوتے اور پھر کھلے گگن کی گہری اور بے وفا آنکھوں میں کھو جاتے ,اور باہر کے جھونکے ہوتے موسم کی اک بے نقش سے خواب میں ملتے ملتے اور جدا ہو جاتے خشک زمینوں کے ہاتھوں پر سبز لکیریں کندا کرتے اور ان دیکھے سپنے بوتے اپنے اپنے آنسو رو کر چین سے سوتے، !فرض کرو ہم جو کچھ اب ہیں وہ نہ ہوتے ۔۔۔ ۔۔۔ امجد اسلام امجد ۔۔۔ عکس کے دشتِ تنہائی سے



Saturday, October 28, 2006

میری تیری نگاہ میں

میری تیری نگاہ میں جو لاکھ انتظار ہیں جو میرے تیرے تن بدن میں لاکھ دل فگار ہیں جو میری تیری انگلیوں کی بے حسی سے سب قلم نزار ہیں جو میرے تیرے شہر کی ہر اک گلی میں میرے تیرے نقشِ پا کے بے نشاں مزار ہیں جو میری تیری رات کے ستارے زخم زخم ہیں جو میری تیری صبح کے گلاب چاک چاک ہیں یہ زخم سارے بے دوا یہ چاک سارے بے رفو کسی پہ راکھ چاند کی کسی پہ اوس کا لہو یہ ہے بھی یا نہیں ، بتا یہ ہے کہ محض جال ہے میرے تمھارے عنکبوتِ وہم کا بُنا ہوا جو ہے تو اسکا کیا کریں نہیں ہے تو بھی کیا کریں بتا، بتا بتا، بتا ۔۔۔ فیض احمد فیض ۔۔۔



Monday, October 09, 2006

قومی ترانہ

پاک سرزمین شاد باد كشور حسين شاد باد تو نشان عزم عالی شان ارض پاکستان مرکز یقین شاد باد پاک سرزمین کا نظام قوت اخوت عوام قوم ، ملک ، سلطنت پائندہ تابندہ باد شاد باد منزل مراد پرچم ستارہ و ہلال رہبر ترقی و کمال ترجمان ماضی شان حال ! جان استقبال سایۂ خدائے ذوالجلال



بیاض کیا ہے؟

بیاض اردو شاعری اور ادب کا نچوڑ ہے

اراکینِ بیاض

اسماء

عمیمہ

حارث

میرا پاکستان

طلحہ

باذوق

حلیمہ

بیا

میاں رضوان علی

بیاض میں شمولیت؟

اگر آپ بیاض میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو یہ قوائد پڑھ لیں، بعد از اپنے نام اس ای میل پر بھیجیں۔

دیکھنے میں دشواری؟

اردو کو بغیر دشواری کے دیکھنے کے لیے یہاں سے فونٹ حاصل کریں۔

گذشتہ تحریرات:

خزینہ گم گشتہ:

Powered by Blogger

بلاگ ڈیزائن: حنا امان

© تمام حقوق بحق ناشران محفوظ ہیں 2005-2006