|
|
![]() |
Sunday, October 16, 2005آنکھوں سے کون میری، میرے خواب لے گیا چشمِ صدف سے گوہرِ نایاب لے گیا اس شہرِ خوش جمال کو کس کی لگی ہے آہ کس دل زدہ کا گریہءِ خوں ناب لے گیا کچھ نا خدا کے فیض سے ساحل بھی دور تھا کچھ قسمتوں کے پھیر میں گرداب لے گیا واں شہر ڈوبتے ہیں ، ادھر بحث کہ انہیں خم لے گیا ہے یا خمِ محراب لے گیا کچھ کھوئی کھوئی آنکھیں بھی موجوں کے ساتھ تھیں شاید انہیں بہا کےکوئی خواب لے گیا طوفانِ ابر باد میں سب گیت کھو گئے جھونکا ہوا کا ہاتھ سے مضراب لے گیا غیروں کی دشمنی نے نہ مارا، مگر ہمیں اپنوں کے التفات کا زہراب لے گیا اےآنکھ! اب تو خواب کی دنیا سے لوٹ آ "مژگاں تو کھول ! شہر کو سیلاب لے گیا" |
بیاض کیا ہے؟بیاض اردو شاعری اور ادب کا نچوڑ ہے اراکینِ بیاضبیاض میں شمولیت؟دیکھنے میں دشواری؟اردو کو بغیر دشواری کے دیکھنے کے لیے یہاں سے فونٹ حاصل کریں۔ گذشتہ تحریرات:
بلاگ ڈیزائن: حنا امان |
|
|
© تمام حقوق بحق ناشران محفوظ ہیں 2005-2006 |
4: تبصرہ جات
خوش آمدید ۔۔۔ بہت اچھا آغاز ہے۔
10/17/2005 02:57:00 AM
:)!بہت خوب
10/17/2005 03:22:00 AM
ھمتِ التجا نہیں باقی
ضبط کا حوصلہ نہیں باقی
اک تری دید چھن گئ مجھ سے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں باقی
اپنے مشقِ ستم سے ہاتھ نہ کھیںچ
میں نہیں یا وفا نہیں باقی
ترے چشمِ عالم نواز کی خیر
دل میں کوئئ گلہ نہیں باقی
ہو چکا ختم عہدِ ہجر و وصال
زندگی میں مزا نہیں باقی
۔ فیض
10/17/2005 11:43:00 AM
آپ سب کا بہت بہت شکریہ، مےری کوشش ہو گی کہ بیاض پر اچھے سے اچھا مواد پوسٹ کیا جأے۔
10/17/2005 05:23:00 PM
Post a Comment
<< صفحہ اول